حکومت سے 100ارب لے کر بھی صنعتکاروں نے ملازمین نکال دیئے

تجزیہ محمد عمر خان: عمران خان حکومت نے 100 ارب روپے کا صنعت کاروں کو پکیج دیتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ یہ اس رقم کو دینے کا ایک مقصد یہ بھی تھا تاکہ فیکٹریوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کو بے روزگار ہونے سے بچایا جا سکے ـ لیکن فیکٹری مالکان نے اس حکم پر عمل کرنے کے بجائے محنت کشوں کو نوکریوں سے نکالنا شروع کردیا۔ صورتحال اتنی بگڑ چکی ہے کہ خود حکومتی وزراء اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ ملک میں بے روزگاری میں بہت تیزی سے اور بہت بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے ـ

ایک اندازے کے مطابق اس کورونا وائرس کی وجہ سے وطن عزیز میں اب تک گزشتہ تین ماہ کے دوران تقریباً دو کروڑ بارہ لاکھ افراد اپنے روزگار سے محروم ہو چکے ہیں، اس میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے محنت کش افراد شامل ہیں ـپاکستان کے مختلیف شہروں میں مزدوروں کا احتجاج جاری ہے۔ کراچی کے بڑے صنعتی زون کورنگی میں احتجاجی مزدورں پر فائرنگ بھی کی گئی۔ لیکن کیا اس کے بعد بھی مزدوروں کا احتجاج رک سکے گا۔۔یہ فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔ آگے کا پس منظر سمجھنے کے لیئے پاکستان اور دنیا کی معاشی صورتحال کا ایک سرسری جائزہ ضروری ہے
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستانی ایکسپورٹ کی بھی سب سے لزیادہ کھپت ایکسپورٹ امریکہ اور مغربی ملکوں میں ہی ہوتی ہے، لیکن امریکا کی معاشی صورتحال اس وقت بدتر ہے۔

امریکہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے ساڑھے سترہ فیصد افراد بے روزگار ہو چکے ہیں اور امریکی ماہرین اقتصادیات و تھنک ٹینک اس بات کا برملا اظہار کر رہے ہیں کہ بے روزگاری کی یہ شرح 25 فیصد تک جا سکتی ہے ـ جس کا مطلب ہے کہ ہر چار میں سے ایک امریکی شہری بےروزگار ہو سکتا ہے ۔ ۔امریکہ میں شرح سود بھی منفی میں جانے کے اشارے مل رہے ہیں۔ جس کے نتائج عالمی معیشت پر منفی ہوں گے

معاشی تجزیہ کار اس بات کے اشارے دے رہے ہیں کہ اسٹیٹ بینک شرح سود میں مزید کمی کر سکتا ہے اور اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ امریکہ کی طرح پاکستان میں بھی شرح سود منفی حد تک جا سکتی ہےـ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے 50 لاکھ سے زائد پاکستانی اپنے روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان بھیجی جانے والی رقوم پر اس کا براہ راست اثر پڑے گا اور اتنی بڑی تعداد میں بیروزگار ہوکر آنے والے افراد کو حکومت کیسے روزگار مہیا کرے گی۔ یہ محنت کش جو بیرون ملک کماتےہیں اس سے ان کے گھر چلتے ہیں اسطرح اگر ایک گھر میں پانچ افراد ہیں تو پچاس لاکھ بیروزگار ہونے والے افراد کا مطلب ہے ڈھائی کروڑ افراد کی معاشی حالت تباہ ہوجائے گی۔ ، جبکہ اگر یہ افراد بیرون ملک سے اپنے پیاروں کی بھیجی گئی رقم سے جو خریداری کرتے تھے اس سے کئی افراد کو روزگار ملتا تھا۔ اسطرح محتاط اندازے کے مطابق براہ راست یا بالواسطہ ساڑھے بارہ کروڑ افراد اس صورتحال سے متاثر ہوسکتےہیں ۔

اطلاعات ہیں کہ خراب موسم کی وجہ سے اس مرتبہ گندم کی پیداوار میں 12 لاکھ ٹن کی کمی واقع ہو سکتی ہے، خود وزیر خوراک و زراعت جس کا متعدد بار اظہار کر چکے ہیں اور ملک میں بھی گزشتہ دو ماہ سے لاک ڈاؤن کی صورتحال موجود ہے ـ معاشی خراب صورتحال کے وجہ سے ایک رپورٹ کے مطابق عمران خان حکومت گزشتہ تین ماہ کے دوران ساڑھے آٹھ سو ارب روپے کے کرنسی نوٹ چھاپ چکی ہے، جس کا اثر افراط زر پر آنے والے وقت میں پڑے گا
حکومت نے اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے معاشی پہیہ چلانے کے لیئے ریلیف پیکیج پر پیکج جاری کیے۔ صنعتکاروں کو ایکسپورٹ ری فنانس کی ادائیگیاں کی گئیں، بجلی گیس کے بلز میں مراعات دی گئیں۔ پیداواری لاگت کم کرنے کے لیئے خصوصی معاشی پیکیج بنائے گئے ۔ سو ارب سے زائد رقم عوام کے ٹیکسوں سے بھرے گئے خزانے سے دی گئی لیکن ان سب کے نتائج وہ نہ نکل سکے جس کی توقع کی جارہی تھی۔ صنعتکاروں نے مراعات اور پیسے تو لیئے لیکن ورکرز کو کوئی فائدہ نہیں دیا۔

کراچی سائٹ ایریا میں ٹیکستائل ورکرز کی ہڑتال، فیصل آباد میں مظاہرے سب اس بات کا اظہار ہے کہ حکومتی پیکیج کے مقاصد حاصل نہیں ہورہے اور اس کی بڑی وجہ صنعتکاروں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

اسوقت جہاں کئی اداروں میں چھانٹیاں جاری ہیں وہیں ملازمین کی تن خواہیں کم کی جارہی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی تقریبا تما ہر چھوٹی بڑی کمپنی میں پندرہ فیصد سے پچاس فیصد تک تن خواہیں کم کردی گئی ہیں جبکہ ملازمین کی بڑی تعداد میں کمی کی گئی ہے۔

یہ تمام اقدامات حکومت کے مراعاتی پیکیج کو فیل کردیں گے۔ عوام کے پاس پیسے خرچ کرنے کے لیئے نہیں ہوں گے لہذا معاشی پہیہ نہ چل سکے گا۔ اور حکومت کو جون کے وسط تک یا تو صنعتکاروں پر دباو ڈال کر نوکریاں بحال کرانی ہوں گی یا پھر ایک نیا پیکیج دیکر پھر ان کے خزانے بھرنے ہوں گے۔

محمد عمر خان لیفٹ کی سیاست سے وابستہ ہیں سینئر سیاستدان ہیں قومی اور صوبائی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں