افغانستان میں عبدالرشید دوستم کی اقتدار میں واپسی، اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ میں معاہدہ

نیوز ڈیسک: افغانستان میں آخر کار اشرف غنی اورعبداللہ عبداللہ ہیںکے درمیان اقتدار کے فارمولے پر معاہدہ ہوگیا ہے۔لیکن اقتدار کے اس فارمولے میں اہم بات رشید دوستم کی اقتدار میں واپسی ہے۔ رشید دوستم پرانے افغان جنگجو ہیں اور طالبان کے خلاف بھرپور لڑائی لڑتے رہے ہیں۔

عبدالرشید دوستم نئی افغان حکومت کے نائب صدر ہوں گے۔عبدالرشید دوستم ازبک بلاک اور شمالی افغانستان میں انتہائی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ یہ نوے کی دہائی میں طالبان سے بھرپور جنگ لڑتے رہے ہیں۔ ان کی اقتدار میں واپسی سے امریکا اور حکومت نے طالبان کو پیغام بھیجا ہے کہ طالبان حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ افغانستان پشتون اور فارسی بولنے والوں کے درمیان تقسیم ہے۔ یہ فالٹ لائن افغانستان میں ہمیشہ خونی لڑائیوں کا سبب رہی ہے۔ اسوقت پشتون بیلٹ پر طالبان کا زیادہ رائج ہے ۔افغانستان کے صدارتی انتخاب میں اس بار جو نتائج آئے اس میں ان دونوں رہنماوں نے پچاس پچاس فیصد ووٹ لیئے ہیں۔ جس کے بعد دونوں نے صدر بننے کا اعلان کیا اور اسطرح افغانستان میں بیک وقت دو صدر تھے

یہ صدارتی جنگ اس وقت ہورہی تھی جب افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ بڑھ چکا ہے۔ امریکا افغانستان سے نکلنے کے لیئے طالبان سے مذاکرات کررہا ہے جبکہ طالبان کے حملوں میں شدت آچکی ہے جس کی وجہ سے مسلسل افغان فوجیوں کے طالبان سے ملنے کی اطلاعات آرہی ہیں۔

ایسی صورتحال میں قیادت میں جنگ افغان حکومت کو کمزور ترین حکومت بنا دیتی ہے جس کی وجہ افغان فوج کا مورال ڈاون ہے ۔ اگر یہی صورتحال رہی تو آنےو الے وقت میں طالبان کو اقتدار سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی تو بیرون ملک چلے جائیں لیکن افغانستان میں خون خرابے کا نیا دور شروع ہوگا

اس کے پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے یہ آنے والا وقت بتائے گا لیکن تاریخی طور پر افغانستان میں ہونےوالی خونریزی پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا سبب بنی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں