ریاست گوگل پر ٹرمپ کا حملہ۔ گوگل اور فیس بک پر سرخوں کا قبضہ ہے، ٹرمپ کا بیان

امریکی صدر ٹرمپ نے گوگل، فیس بک ٹوئٹر انسٹا گرام کےخلاف کارروائی کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان پر ریڈیکل لیفٹ یعنی سرخوں کا قبضہ ہے۔

ایک ٹوئٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ گوگل فیس بک ٹوئٹر انسٹا گرام کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی تیاری کررہی ہےان کے اس بیان کی وجہ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر سینسر شپ پر ایک اینکر کا ردعمل تھا۔ ٹوئٹر نے بعد میں اس اینکر کا ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا

امریکی فیڈرل گورنمنٹ کا گوگل کے خلاف اینٹی ٹرسٹ مقدمہ کرنے کی تیاری کررہی ہے جس کی بنیاد یہ بنائی گئی ہے کہ گوگل کی وجہ سے مارکیٹ میں مقابلے کا رحجان متاثر ہورہا ہے۔ ٹیکساس کے اٹارنی جنرل نے گوگل کو قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔

اس وقت بڑی بحث یہ چھڑ چکی ہے کہ کیا گوگل کا وقت ختم ہورہا ہے۔ گوگل اور فیس بک سائبر ورلڈ میں دو بڑی ریاستیں سمجھی جاتی ہیں۔ سرچ انجن پر پہلے یاہو کا راج تھا لیکن اب گوگل کا راج ہے۔ اسی طرح فیس بک کی ٹکر کا کوئی ابھی تک نہیں آیا ہے اور اگر کسی نے فیس بک سے زیادہ مقبولیت حاصل کرنی شروع کی تو فیس بک نے اسے خرید لیا جس کی بڑی مثال انسٹا گرام ہے۔

دو کمپنیوں کی اجارہ داری کے خلاف ٹرمپ کا جانا صرف سیاسی مسئلہ نطر نہیں آتا۔ عالمی سرمایہ داری میں مناپلی کو ایک حد تک برداشت کیا جاتا ہے جس کے بعد چھوٹی کمپییاں اتحاد بنا کر ریاست کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ مناپلی کو توڑے۔ ابتک سرمایہ داری نے اسی طرح ترقی کی ہے۔

آنےو الے وقت میں گوگل کی ریاست یقینی طور پر متاثر ہوگی۔ اس ریاست میں سب سے زیادہ ملازم امریکا کے نہیں بلکہ دوسری ممالک کے افراد ہیں۔ چین بھارت روس سمیت کئی ممالک کے لوگ اس میں کام کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جنگ آگے کئی گل کھلائے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں