امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دوبارہ انتخاب جیتنا مشکل نہیں ناممکن ہوچکا ہے

کراچی سے محمد عمر خان: اب امریکہ سے یہ خبریں آ رہیں ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ تیزی سے گرتی اپنی ساکھ کو بچا نے کی کوششوں میں مصروف ہیں، وہ اب گوام کے قریب فوج جمع کرنے میں مصروف عمل ہیں ـ یعنی عوامی جمہوریہ چین کے خلاف جنگ کا محاذ کھولنے کی تیاریوں میں ہیں، تاکہ اندرون ملک ان پر جو تنقید ہو رہی ہے اس سے امریکی عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے ـ

یہ بات تو بالکل واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کورونا وائرس سے نمٹنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے ـ جس کی وجہ سے ابتک ہزاروںامریکی شہری ہلاک ہو چکے ہیں، اب تک لاکھوں کی تعداد میں کورونا وائرس کے شکار ہو چکے ہیں اور ہلاکتوں کا یہ سلسلہ روکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ـ امریکی عوام، تھنک ٹینک اور اراکین سینٹ و کانگریس سے تعلق رکھنے والے نمائندگان امریکی صدر کی کورونا وائرس سے نمٹنے میں ٹرمپ کی غیر سنجیدگی کو وبا کے پھیلنے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں ـ اس ناقص پالیسی کی وجہ سے امریکی معیشت کو بھی ناقابل تلافی حد تک نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے اور اب تک تین کروڑ سے زائد امریکی عوام اپنے روزگار سے محروم ہوچکے ہیں،

عمر خان، سینئر سوشلسٹ سیاستدان

آجکل مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آ رہی ہے، (Crude Oil) خام تیل کی قیمتیں منفی حد تک گرنے کے بعد پہلی مرتبہ امریکہ خلیج کے علاقے سے اپنی اینٹی میزائل بیٹریاں ہٹا رہا ہے، یہ میزائل امریکہ نے ایران کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے خطرے کی وجہ سے نصب کئے تھے ـ اس کی کیا وجہ ہے کہ امریکہ اب مشرق وسطیٰ سےاپنی فوجی قوت میں کمی کر رہا ہے ـ شاید کورونا وائرس کی وجہ سے اور عالمی مارکیٹ میں (Crude Oil) خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ایران کی تباہ حال معیشت اسے بھی کسی مہم جوئی کی اجازت نہیں دیتی ہے – کیونکہ ایران میں اس وقت تک 6 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکیں ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہیں اور یہ سلسلہ روکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ـ خود پاکستان کی حکومت کے سربراہ عمران خان نے ایک ایسے وقت میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ پاکستان میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران کورونا وائرس سے مرنے والے افراد کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اسی طرح اس دوران کورونا کے مریضوں کی تعداد دوگنی سے زائد ہو گئیں ہیں
اس صورتحال میں نومبر 2020ء میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ـ صدر ٹرمپ کی پوری توجہ اس وقت امریکی صدارتی انتخاب کی طرف ہو گی، جہاں ان کے مد مقابل جوبائیڈن ہیں اور ان کو برنی سینڈر کی حمایت بھی حاصل ہے ـ اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی بوکھلاہٹ میں روز بروز تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکی معاشی ماہرین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ موجودہ بحران 1930ء کے اقتصادی بحران سے بھی زیادہ بھیانک ثابت ہو سکتا ہے ـ سرمایہ داری نظام کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ بحرانوں کو ٹالنے کے لیے جنگی ماحول پیدا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں ـ اس لئے اپنی نالائقی کا سارا ملبہ چین کی حکومت پر ڈالتے ہوئے وہ کورونا وائرس سے متعلق بیان دیتے ہیں کہ یہ چین کی لیبارٹری سے امریکہ منتقل ہوا ہے لیکن خود امریکی انتظامیہ کے کئی اہلکار بشمول فوجی افسران اس بات سے متفق نہیں وہ اسے کسی بائیولاجیکل وار کا حصہ قرار نہیں دیے۔ ـ امریکی صدر کی پریشانی کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی فنڈنگ بند کرنےکی دھمکی دے دی ہے۔امریکہ کی بدحال معیشت، بڑھتی بیروزگاری اور اموات میں اضافہ ٹرمپ کی شکست کے لیئے راہ ہموار کرچکا ہے۔ اسی لیے وہ اب کورونا وائرس سے ہونے والی تباہی اور اپنی ناقص پالیسیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے چین کی حکومت کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنا چاہتے ہیں کہ عوام کی جانب سے ان پر ہونے والی تنقید سے بچا جا سکے ـ گوام میں امریکہ مسلسل اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کرنے میں مصروف ہے، تو ظاہر ہے کہ چینی حکومت بھی جواب میں اپنی فوجی قوت میں اضافہ کرنے پر مجبور ہو گی ـ عوامی جمہوریہ چین اس بات کی قطعی اجازت نہیں دے سکتا ہے کہ امریکہ اس کے گھر کے قریب آ کر اس کو دھمکی لگائے، کیونکہ وہ نا صرف اپنے آپ کو مستقبل کی سپر پاور سمجھتا ہے بلکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت بھی ـ

موجودہ صورتحال سے لگتا ہے کہ نومبر 2020ء میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران یا چین کے خلاف جنگ کا محاذ کھول سکتے ہیں، کیونکہ اس سے پہلے بھی کچھ امریکی صدور ایسا کر چکے ہیں ـ لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا اسلحہ ساز کمپنیاں اور پینٹا گون اس وقت صدر ٹرمپ کے پیچھے کھڑے ہیں یا نہیں، یا یہ کہ امریکی کارپوریشنز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا رحجان کس طرف ہے ـ کیا یہ کمپنیاں ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کی حمایت میں کھڑیں ہیں؟ امریکی کمپنیاں اور پینٹاگون کا جھکاو جس طرف ہو جیت اسی امیدوار کی ہوتی ہے۔ چین سے جنگ شاید امریکی معیشت کے لیئے زیادہ پائیدار ثابت نہ ہو

امریکی اسٹیبلشمنٹ کی بدلتی رائے اور معاشی بدحالی سے ظاہر ہے کہ امریکی صدر اب چاہیں جتنے جتن کر لیں، اب ان کا اقتدار سے جانا طے ہو چکا ہے اور آئندہ نومبر کے انتخابات میں ان کی شکست یقینی نظر آ رہی ہے ـ

نوٹ: عمرخان سینیئرسوشلسٹ سیاستدان ہیں۔ لیفٹ کی جماعتوں سے وابستہ رہے ہیں اور انتخابات میں بھی حصہ لیتے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں