منٹو اور ترقی پسندوں کی شدت پسندی

لاہور سے سید مدثر الحسن رضوی: آج کسی بھی ترقی پسند سے ملیں تو کامریڈ اپنی گفتگو میں منٹو کا حوالہ ضرور دیتے ہیں۔ بیچارہ منٹو آج فیشن کا حصہ ہے۔ جس سے زندگی میں کامریڈ ملنے سے کتراتے تھے اب ان کی باقیات منٹو اپنی زبان پر سجاتی ہیں۔ منٹو اپنی زندگی میں صرف مذہبی رجعت پرستی کا شکار نہیں ہوا بلکہ ترقی پسندوں کی یا کھل کر کہیں کہ کمیونسٹوں کی شدت پسندی کا بھی شکار ہوا۔

سعدت حسن منٹو اور پروگریسو رائٹرز پروگریسو رائٹرز ’ایسوسی ایشن (پی ڈبلیو اے)کی قیادت کے مابین پہلا بڑا تنازعہ منٹو کی 1942 کی کہانی ’بو‘ کی اشاعت کے بعد ہوا۔ انجمن ترقی پسند کے خیال میں یہ تحریر کسی بھی طرح ورکنگ کلاس کے لٹریچر کے معیار پر پورا نہیں اترتی تھی۔ یہ کہانی ترقی پسندوں کے میگزین ادب لطیف میں شایع ہوا تھا جس کے ایڈیٹر احمد ندیم قاسمی تھے۔ اس تحریر نے سرخوں کو مشتعل کردیا۔ مشہور زمانہ ’بنے بھائی‘ یعنی سجاد ظہیر نے بھی اس تحریر کا تنقید کا نشانہ بنایا ۔ وہی سجاد ظہیر جن کی کتاب لندن کی شامیں شایع ہوچکی تھی انہوں نے اس تحریر کے لیئے لکھا کہ ’کسی مڈل کلاس شخص کی جنسی تسکین کی کہانی کتنی ہی حقیقت پر مبنی ہو یہ دراصل لکھاری (مراد منٹو ہیں)اور پڑھنے والے کے وقت کا ضیاع ہے‘

سید مدثرالحسن رضوی

اس کے ساتھ ہی سجاد ظہیر نےایک اورترقی پسند ڈاکٹر عبدالعلیم کے ساتھ مل کر ایک قرارداد تیار کی میں جس میں منٹو کے مضمون کے مرکزی نقطہ کو ہدف بنایا انہوں نے قرارد اد میں جنسی معاملات کو بیان کرنا بیہودگی قرار دیا اور یہ قرارداد 1945میں حیدرآباد دکن میں ہونے والے انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاس میں پیش کی گئی۔ اس کا مقصد ترقی پسندوں کے مخالفین اور انارکسٹ رجعت پرستی کے یورپی لٹریچر میں ابھرتے ہوئے رحجانات کو روکنا تھا۔ یاد رہے یہ رویہ صرف انجمن ترقی پسند مصنفین کا نہیں تھا بلکہ یہ موقف اسوقت کی تمام ماسکو نواز جماعتوں نے اپنایا تھا۔ چونکہ لائن ماسکو سے آئی تھی تو آمنا و صدقنا عمل کرنا ضروری تھا۔

انجمن ترقی پسند مصنفین کی منافقت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا تھا کہ اس تنظیم کی بنیاد ہی ایک کتاب انگارے پر تھی۔ جس پر خود عریانیت اور فحاشی پھیلانے کا الزام لگ چکا تھا۔ اور اس کتاب کے مصنف کوئی اور نہیں سجاد ظہیر بنے بھائی خود تھے جو اب منٹو کے خلاف قرارداد لیکر کھڑے تھے۔

لیکن یہ قرارداد پاس نہ ہوسکی کیونکہ مولانا حسرت موہانی نے اس پر سب سے بڑا اعتراض اٹھا دیا ان کا کہنا تھا کہ فحاشی کی تعریف کرنا ممکن نہیں۔ اور جس وجہ سے منٹو پر اعتراض کیا جارہا ہے اس بنیاد پر تو اردو کے بڑے بڑے شعرا کی شاعری بھی فحاشی کے زمرے میں آئے گی۔

منٹو اور ترقی پسندوں کے مابین انجمن ترقی پسند مصنفین کے اندر ہونے والی اس بحث کے نتیجے میں تعلقات خراب کردیئے تھے۔

جب منٹو تقسیم کے بعد بمبئی سے لاہور روانہ ہوئے تو انہوں نے اپنی مختصر کہانیوں کا ایک مجموعہ’چغد‘ قطب پبلشرز کے حوالے کیا ، اور سردار جعفری کو ایک خط لکھ کر اس کتاب کا پیش لفظ لکھنے کی درخواست کی ساتھ میں یہ بھی لکھا کہ جو بھی سردار جعفری لکھیں گے وہ انہیں قابل قبول ہوگا۔

اس کے جواب میں سردار جعفری نے لکھا: “پیش لفظ لکھ کر مجھے بہت خوشی ہوگی۔ حالانکہ آپ کی کتاب کو کسی کی ضرورت نہیں ہے ، اور یقینا میرے ذریعہ تو ذرا بھی نہیں ہے۔ آپ جانتے ہو کہ ہمارے ادبی نظریہ میں کافی فرق ہےلیکن اس کے باوجود میں آپ کا بہت احترام کرتا ہوں‘ منٹو نے جوابی خط میں لکھا کہ یہ کتاب بغیر پیش لفظ کے شایع کی جائے لیکن جب تک یہ خط ملتا پبلشر نے سردار جعفری کے پیش لفظ کے ساتھ کتاب شایع کردی تھی۔ اس پیش لفظ میں سردار جعفری نے منٹو پر کڑی تنقید کی اور انہیں حقیقی ترقی پسندی سے دور قرار دیا۔

یہ پہلا موقع بھی نہیں تھا جب منٹو کو اس طرح کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مسئلہ پلیٹ فارم کے انتخاب میں تھا۔ سردار جعفری کی طرف سے کی گئی تنقید کا وقت اور سیاق و سباق بھی منٹو کے حالات سے متصادم تھا۔ اس پر منٹو نے سخت ردعمل دیا۔ اور پاکستان میں 1950 میں شایع ہونے والے ایڈیشن سے سردار جعفری کا پیش لفظ ہٹا دیا گیا اس کی جگہ “نام نہاد ترقی پسندوں” کےعنوان سے تحریر لکھی جس میں ترقی پسندوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا انہیں کنفیوزڈ قرار دیا۔ منٹو ترقی پسندوں اور بالخصوص سردار جعفری کے لیئے یہ جملہ استعمال کرتے تھے کہ ’ترقی پسند سوچا نہیں کرتے‘ ۔ ان کے مضمون کا مرکزی خاکہ بھی اسی کے گرد تھا۔

قیام پاکستان کے بعد منٹو لاہور منتقل ہوگئے اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے عہدیداروں سے ان کی قربت ہوگئی۔ ان میں احمد ندیم قاسمی سب سے نمایاں تھے۔ پاکستان کے ابتدائی دور میں مصنف کی حیثیت سے ان کی صرف مستقل ملازمت فیروز احمد فیض کے ذریعہ ترمیم شدہ ، بائیں بازو کے اردو روزنامے امروز کے لئے تھی۔ احمد ندیم قاسمی اور احمد راہی جیسے اس وقت کے سب سے قریبی دوست قابل ذکر ترقی پسند تھے۔ منٹو نے مختصر افسانے جو لاہور کے اقدام کے بعد اپنے تعارف کے ابتدائی دور کے بعد لکھے تھے وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے جرائد میں شائع ہوئے تھے۔پنجاب حکومت نے ٹھنڈا گوشت کے خلاف فحاشی کے الزام میں منٹو کے خلاف مقدمہ چلایا تو فیض احمد فیض کو منٹو نے بطور گواہ پیش کیا

لیکن یہ دوستی زیادہ دیر چلی نہیں۔ منتو نے سیاہ حاشیئے اور اردو ادب شایع کیے تو انجمن ترقی پسند مصنفین میں کھلبلی مچ گئی۔ اردو ادب ایک جریدہ تھا جس میں صرف ترقی پسندوں سے تحریریں نہیں لی گئیں تھی بلکہ ہر مکتبہ فکر کو شامل کیا گیا تھا۔ سیاہ حاشیہ پر قیام پاکستان کےدرمیان ہونے والے فسادات پر لکھی گئی کہانیاں تھیں۔ سیاہ حاشیہ پر احمد ندیم قاسمی نے لکھا کہ ’اس کتاب کو پڑھ کرمجھے لگتا ہے کہ ہرطرف مردہ جسم بکھرے پڑے ہیں اور مصنف ان جسموں سے سگریٹ کے ٹکڑے اور پیسے چرا رہا ہے‘ یہ انتہائی سخت تنقید تھی۔

جب اردو ادب شایع ہوا جس کے ایڈیٹر منتو اور محمد حسن عسکری تھے تو احمد ندیم قاسمی نے انجمن ترقی پسند مصنفین کی جانب سے ایک خط لکھ جس مین کہا کہ ’آرٹ برائے آرٹ کی افیم کو نکال باہر کرو۔ ہماری تحریک کا مقصد عوام کےتکلیف کو سمجھنا اور انہیں اپنانا ہے‘

نومبر 1949میں بالاآخر انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاس میں منٹو عصمت چغتائی، حسن عسکری اور قرت العین حیدر کے خلاف قرارداد پیش کی گئی۔ اور ان پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ منٹو کے جریدے کے لیئے بھیجی گئی تحریریں ترقی پسند مصنفین نے واپس منگوا لیں۔ انجمن ترقی پسند مصنفین نے ایک حکمنامے کے تحت انجمن ترقی پسند مصنفین کے ممبران کو منٹو کے رسالے اردو ادب کے بائیکاٹ کی ہدایت کی گئی تھی۔ احمد ندیم قاسمی نے بھی منتو کی تحریر نقوش میں شایع کرنے سے معذرت کرلی تھی۔ اردو ادب دو شماروں کے بعد بند ہوگیا۔ منٹو کے لیئے زندگی مزید تلخ ہوگئی

انجمن ترقی پسند مصنفین کی اس شدت پسندی سے منٹو کو معاشی دھچکا پہنچا تھا۔ انہون نے لکھا کہ ’میں لکھ لکھ کر کماتا ہوں اور اپنے بیوی بچوں کا خرچہ پورا کرتا ہوں۔ اگر میں بیمار ہوگیا اور مجھے در در جاکر بھیک مانگنا پڑے گا جو میرے لیئے لیئے بہت پریشان کن ہے۔آرٹ آزاد ہوتا ہے اس پر کسی ایک نظریہ کی اجارہ داری قائم نہیں کی جاسکتی۔ حکومت مجھے کمیونسٹ سمجھتی ہے اور کمیونسٹ مجھے ری اکشنری سمجھتے ہیں‘

اگر کوئی مرجائے تو اس کی برائی نہ کریں۔۔اس تصور نے ماضی کے کئی جرائم پر پردہ ڈال دیا جس کی وجہ سے ایک بہتر حال تعمیر نہ ہوسکا۔ انجمن ترقی پسند مصنفین نے اپنی شدت پسندی کی منٹو سے کبھی معافی نہ مانگی۔ کمیونسٹوں نے ماسکو کی اندھا دھند پیروی کی مزدوروں سے معافی نہ مانگی۔ نتیجہ آج دونوں کی حیثیت معاشرے میں بہت ہی معمولی ہے۔

نوٹ: اس مضمون کے لیئے سرمد صہبائی کے ہیرالڈ میں شایع ہونے والے مضمون اور سب رنگ انڈیا میں علی میر سعدیہ طور کے مضامین سے مدد لی گئی ہے۔ علی میر سعدیہ طور نے مختلیف کتب کا حوالہ دیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں