میڈیاسے لڑائی۔۔پیپلز پارٹی کا نیا رخ سامنے آیا

کراچی سے سید صادق رضوی: پیپلز پارٹی عمومی طور پر دفاعی حکمت رکھتی ہے۔ میڈیا کی طرف سے جتنی بھی تنقید ہو میڈیا کے خلاف مہم نہیں چلاتی۔ اس کا یہی رویہ اس کے جمہوری رنگ کا سب سے اہم حصہ ہے۔ لیکن اس ویک اینڈ پر پیپلز پارٹی نے بتایا کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ مہم نہیں چلا سکتے۔

اے آروائی نیوز اور پیپلز پارٹی کے وزیر سعید غنی کے درمیان پہلے مارننگ شو میں تلخی سامنے آئی اور پھر یہ تلخی ٹوئٹر پر جنگ کی کیفیت اختیار کرگئی۔ اے آروائی نیوز نے مارننگ شو میں سوال اٹھایا کہ سندھ نے ابتک صحت کا بجٹ کہاں خرچ کیا ہے۔ جس پر سعید غنی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جسطرح سندھ کا اے آروائی احتساب کررہا ہے کیا دیگر صوبوں کا کرتا ہے۔ یہاں سے اینکرز اور سعید غنی کے درمیان بحث شروع ہوئی

معاملہ مزید بگڑا جب اے آروائی کے وائس پریذیڈینٹ عماد یوسف نے اے آروائی کی طرف سے سعید غنی کو جواب دینے شروع کیئے۔ عماد یوسف جو صحافی نہیں ہیں فقط مینجمنٹ کرنا جانتے ہیں وہ اس بات سے قطعی ناواقف تھے کہ صحافی اور سیاسی لیڈرز کے درمیان تلخیاں ہونا کوئی نئی بات نہیں لیکن صحافی جانتے ہیں کہ کیسے بات کو ذاتی لڑائی سے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ عماد یوسف یہ بھی بھول گئے کہ بطور مینجمنٹ ان کا کام اختلافی صورتحال کے دوران ایک پل کا کردار ادا کرنا ہے۔

اس کا نتیجہ جو نکلنا تھا وہی ہوا۔ پہلے سعید غنی نے عماد یوسف کو براہ راست جواب دینا شروع کیا اور کہا کہ ایک ایجنڈے کے تحت کچھ ہورہا ہے اسی دوران پیپلز پارٹی کے خلاف ٹوئٹر ٹرینڈ شروع ہوا پھر پیپلز پارٹی نے وہ حربہ اپنایا جو اس سے پہلے پیپلز پارٹی نے سوشل میڈیا پر نہیں آزمایا تھا۔

پیپلز پارٹی نے اے آروائی کے خلاف ٹوئٹر ٹرینڈ چلانا شروع کیے۔پھر ٹوئٹر پر لڑائی اتنی بڑھی کہ دونوں کے ایک دوسرے کے خلاف ٹوئٹر پر ٹرینڈ ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔اسی دوران اے آروائی نیوز کے مشہور عوامی اینکر اقرار الحسن نے سعید غنی کو مناظرے کا چیلنج دیدیا۔ یہاں سے تلخی مزید بڑھ گئی۔۔۔۔پیپلز پارٹی نے سب سے خطرناک ٹرینڈ چلایا جو تھا اے آروائی لعنت۔۔اس ٹرینڈ پر پیپلز پارٹی کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن یہ ٹرینڈ ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہوگیا۔ جب اے آروائی کے سابق کنٹرولر فرحان رضا نےا س پر سعید غنی کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ اے آروائی کو جواب دینے کا حق سعید غنی کو ہےلیکن پیپلز پارٹی کی برداشت کی روایتوں کو نہ چھوڑا جائےتواس پر سعید غنی نے جواب دیا کہ انہیں ایسا کرنے پر اے آروائی نیوز کی حرکتوں نے مجبور کیا۔ اس کے بعد میڈیا کی دیگر شخصیات جن میں کامران خان، رابعہ انعم وغیرہ نے بھی انہیں اپنے رویہ میں نرمی کا مشورہ دیا۔

بالاخر وزیراعلی سندھ نے اس ہیش ٹیگ کو روکنے کی ہدایت کی

اس دوران پیپلز پارٹی کے کارکنان اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹوں نے ٹوئٹر پر اے آروائی لعنت کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بنادیا تھا۔۔کئی کارکنان لعنت دکھانے کی تصاویر بھی اپ لوڈ کررہے تھے۔ صورتحال خاصی بگڑ چکی تھی

جس کے بعد بیچ بچاو کا عمل شروع ہوا۔ کہا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت اور اے آروائی کے مالکان کے درمیان ایک مشترکہ دوست کے ذریعہ رابطہ ہوا جس کے بعد کشیدگی میں کمی آنا شروع ہوئی۔ عماد یوسف اور رپورٹر ارباب چانڈیو نے سعید غنی سے ملاقات کی۔ جس میں سعید غنی سے گلے شکوے ہوئے۔ سعید غنی نے بعد میں ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اے آروائی کو تنقید سے نہیں روکا لیکن اس کا تاثر سندھ حکومت کے خلاف مہم کا نہیں ہونا چاہیے۔

ہفتے سے شروع ہونے والی اس ٹوئٹر جنگ کو لاکھوں لوگوں نےپڑھا ۔ اس دوران سیاسی حلقوں میں پہلی بار یہ رائے سامنےا ٓئی کہ سوشل میڈیا پر اب پیپلز پارٹی نے اپنی طاقت کا اظہار کیا ہے۔ اس سے پہلے سوشل میڈیا کی کنگ تحریک انصاف سمجھی جاتی تھی۔ جس نے ن لیگ کو خاصی تکلیف پہنچائی۔ جس کے جواب میں مریم نواز کی سربراہی میں سوشل میڈیا ٹیم کو آرگنائز کیا گیا اور پھر اس ٹیم نے تحریک انصاف کو کئی معملات پر سوال اٹھا کر خاصہ تنگ کیا۔ پیپلز پارٹی نے سوشل میڈیا پر زیادہ توجہ دینا ایک سال پہلے شروع کی اور اب باقاعدہ سوشل میڈیا ونگ قائم کردیا ہے۔ یہ اس ونگ کی پہلی بڑی کامیابی تھی۔

پاکستان میں رائے سازی میں اب ٹی وی اور اخبار کا اتنا کردار نہیں رہا جتنا سوشل میڈیا کا ہے۔ اسی وجہ سے کئی نامور اینکرز بھی سوشل میڈیا پراپنی ویڈیوز شیئر کرنا زیاد ضروری سمجھتے ہیں۔ اور کئی نے تو باقاعدہ یوٹیوب چینل بنالیئے ہیں

پیپلز پارٹی کی سوشل میڈیا پر دبنگ انٹری یقینی طور پر اسے آنے والے بلدیاتی انتخابات میں فائدہ پہنچائے گی۔ کیونکہ اب سیاست کا میدان سوشل میڈیا ہے اخبار ٹی وی اور سیاسی جلسے نہیں رہے۔

ںوٹ: کیونکہ دونوں فریقین کےدرمیان صلح ہوچکی ہے اس لیئے ان کے ایکدوسرے کے خلاف ٹوئٹ نہیں دکھائے جارہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں