ریٹائرمنٹ کا مطلب نہیں کہ زندگی تیاگ دیں

تحریر سیّد مدثرحسن رضوی: “زندگی جبرِمُسلسل کی طرح کاٹی ھے ۔۔جانے کس جرم کی پائی ھے سزا یاد نہیں” ریٹائرمنٹ کاتعلق عمر سے نہیں بلکہ انسان کی طرزِزندگی اور دیگرعوامل پر جیسے کہ ہمت، حوصلہ، قوّتِ برداشت وغیرہ پر منحصر ھیں- تقریبا” تمام ممالک میں ریٹائرمنٹ کو عمر سے نتھی کیا جاتا ھے جسکی حد 60 سال سے 65 سال کے درمیان ہرملک کےاپنے قوانین کے مطابق ھے جس کااطلاق ملازمت پیشہ افراد پر ھوتا ھے جبکہ کاروباوی طبقہ یہ مانتا ھے کہ جب تک پیسہ َگنے سکت ہاتھوں میں باقی بندا ریٹائرنہیں ھوتا ھو،

چچا غالب نے ایسے موقع پہ کیا خوب شعر کہا ھے- ھاتھوں کو گوہ جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ھے” رھنے” دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے کاروباری افراد کی اس بات سے میں بھی اتفاق کرونگا اور یہ فطرتِ

انسانی بھی ھے کہ پیسے کی گرمی خون کی راوانی کو جلاء بخشتی ھے اور دولت کا احساس ذھنی سکون اور دیرتک جوان رکھنے میں مددگار ثابت ھوتی ھے اور فی زمانہ اہم بات یہ ھے کہ نوٹوں کا وزن انسان کی شخسیت میں بھی وزن پیدا کردیتا ھے- ایک بھرپور طرزِندگی انسان کو زیادہ عمر تک جوان و توانا رکھتا ھے جس کی عام مثال ہر اُس شخسیت کی طرِزندگی جو نوکری پیشہ ھے جو دورانِ نوکری اپنے امورِزندگی باقاعدہ اسطوار رکھتا اور نتیجتہ” اپنے ہم عصروں کی نسبت زیادہ جوان اور متحرک زندگی گزارتا ھے جیسے ھی نوکری پیشہ ریٹائر ھو کر گھر بیٹھتا ھے سال دو سال میں چہرے سے راعنائی اور جسم کی چستی ماند پڑجاتی ھے اور بڑھاپے کے اثرات اُس پر حاوی ھونے لگتے ھیں بلاخر ذھنی اور جسمانی طور پر بوڑھا ھوجاتا ھے- اگر ہم مشاہدہ کریں مغربی ممالک میں گورے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ایسی سرگرمیاں جاری رکھتے ھیں جو اُن کو متحرک،مصروف اور جوان رکھتی ھیں جیسے کہ باغبانی، صبح اُٹھ کر چہل قدمی اور ورزش کرنا، مختلف قسم کے کھیل اور سماجی کام کرنا گوہ کہ امریکی برطانوی اور یورپی افراد اپنے ذھن و جسم کہ مصروف رکھتے ھیں نتیجۃ” عمر کے آخری حصہ تک اپنے ھاتھ پاؤں پر قائم رھتے ھیں جبکہ ھمارے معاشرے میں ہم اس کے برعکس طرزِذندگی گزارتے ھیں جس کی وجہ سے ناصرف جلد بوڑھے ھوجاتے ھیں بلکہ بہت سے امراض کا بھی شکار ھوجاتے ھیں-

جس طرح کھڑا پانی بدبو دینے لگتا ھے اسی طرح ذندگی میں جمود ناصرف انسان کو زنگ لگادیتا ھے ساتھ ساتھ اندر سے کھوکھلا اور بیمار کردیتا ھے- یہ پیغام ناصرف نوکری پیشہ افراد کے لیئے ھے بلکہ مجھ سمیت اُن تمام خاص و عام کیلئے ھے جنھوں اپنی زندگی پر جمود طاری کر لیا ھے- طویل زندگی ھی کامیابی کا راز نہیں اصل کامیابی زندگی کے آخری لمحات تک اپنے ھاتھ پیروں پر جینا ھے- ایک بھرپور متحرک زندگی، صحت مند زندگی کی ضمانت ھے اس لئےجب تک ممکن ھو اپنے لیئے اور دوسروں کیلئے کچھ نہ کچھ کرتے رھنا چاھئے- اگر مختصرلفظوں میں زندگی کا خُلاصہ کیا جائے تو یوں کہاجاسکتا ھے کہ “زندگی اُس اذان سے شروع ھوتی ھے جس کی نماز نہیں ھوتی اور اُس نماز پر ختم ھوتی ھے جس کی اذان نہیں ھوتی-” “نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ھوجائے”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں