ٹرمپ کی سعودی کروان پرنس محمد بن سلمان کو دھمکی، پیوٹن سے پرنس کی لڑائی، سعودی عرب کے لیئے نئی پالیسی بنانے کا وقت

معروف نیوز ایجنسی رائٹرز نے دعوی کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی کراون پرنس محمد بن سلمان کو فون پر دھمکی دی کہ اگر تیل کی پیدوار کم نہیں کی گئی تو امریکی فوجیں سعودی عرب سے واپس بلالی جائیں گی

رائٹرز نے دعوی کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے یہ فون کال دو اپریل کو کی جس کے بعد بارہ اپریل کو اوپیک ممالک نے پیٹرول کی قیمتیں کم کیں۔ امریکی صدر نے فون کال میں کہا کہ اوپیک فوری طور پر پیداوار کم کرے ورنہ امریکی ایوان نمائندگان میں سعودی عرب سے فوجیں بلانے کے بل کو وہ نہیں روک سکیں گے۔ خبر رساں ادارے نے دعوی کیا کہ کروان پرنس اس دھمکی پر حیران رہ گئے انہوں نے کمرے میں موجود تمام افراد کو باہر بھیج دیا اور تنہائی میں امریکی صدر سے مزید بات چیت کی۔

امریکی صدر سے جب بریفنگ میں اس ٹیلی فون کال کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فون کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پیداوار کی کمی کی ڈیل میں مشکلات تھیں میرے فون کال سے وہ مسئلہ حل ہوگیا۔

امریکی سینیٹ میں ایک بل پیش کیا گیا ہے کہ سعودی عرب سے تمام فوجیں اور پیٹریاٹ میزائل سمیت تمام اسلحہ واپس بلا لیا جائے۔ دو سینٹرز نے یہ بل پیش کیا ہے جس میں کہا گیا کہ اگر سعودی عرب تیل کی پیداوار کم نہیں کرتا تو پھر فوجیں واپس بلا لی جائیں، میزائل اور ایئر ڈیفنس سسٹم سعودی عرب سے واپس لے لیا جائے۔

اس سے پہلے مڈل ایسٹ مانیٹر نے خبر دی تھی کہ سعودی کراون پرنس محمد بن سلمان اور روس کے صدر ولادمیر پیوٹن میں ایک ٹیلی فون کال پر شدید تلخ کلامی ہوئی تھی۔ تلخی اتنی شدید تھی کہ دونوں ایکدوسرے پر چیخے اور گالیوں کا بھی تبادلہ ہوا۔ جس کے بعد سعودی عرب نے یکایک تیل کی پیداوار بڑھا دی۔ روس اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی قیمتوں کی جنگ شروع ہوئی اور تیل کی مارکیٹ کریش کرگئی۔ ایک وقت آیا کہ مئی کے سودے سینتالیس ڈالر منفی میں چلے گئے۔

تاہم بعد میں تیل کی قیمتیں بہتر ہونا شروع ہوئیں۔ لیکن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں۔

دوسری طرف امریکا کو تیل کی قیمتوں میں کمی سے شدید نقصان پہنچا۔ شیل آئل کے پیداوار پر کام فوری طور پر بند کردیا گیا۔ امریکہ کی تیل کی کمپنیوں کا کاروبار تقریبا ٹھپ ہوگیا۔ جس کی وجہ سے امریکی معیشت کو زوردار جھٹکا لگا۔

امریکی صدر کی ٹیلی فون کال کے بعد سعودی عرب کی سب سے بڑی کمزوری دفاعی صلاحیت میں کمی ایک بار پھر ابھر کر سامنے آئی۔ سعودی عرب کو جہاں ایران، یمن اور شیعہ ملیشیا سے خطرات کا سامنا ہے وہیں القاعدہ اور داعش جیسی تنظیمیں بھی شاہی خاندان کے لیئے خطرے کا باعث ہیں۔ خطے میں ایرانی بادشاہ رضا شاہ پہلوی کے بعد سعودی خاندان ہے جو سب سے زیادہ امریکا کی افواج سپورٹ پر انحصار کرتے ہیں۔

سعودی کراون پرنس محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لائے ہیں اور خود انحصاری کی پالیسی اپنائی ہے۔ لگتا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد انہیں جو دھچکا لگا ہے وہ آنے والے وقت میں سعودی دفاع کو بھی اپنے قدموں پر کھڑا کرنا چاہیں گے۔ اور امریکا پر انحصار کم کریں گے۔ جس کے بعد مڈل ایسٹ کی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آسکتی ہے۔ اسوقت امریکا کے لیئے دفاعی لحاظ سے سعودی عرب اہم ہے کیونکہ مڈل ایسٹ میں اسرائیل کے خلاف کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوپاتی۔ لیکن اگر عرب ممالک اپنا دفاعی انحصار امریکا پر سے ختم کرتے ہیں تو پھر اسرائیل کے لیئے مشکلات بڑھ جائیں گی۔

آنے والے چند سال اس لحاظ مڈل ایسٹ کے لیئے اہم سمجھے جارہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں