عرفان خان اپنی والدہ سے دور نہ رہ سکے

بھارتی اداکار جنہوں نے ہالی ووڈ میں بھی اپنا فن منوایا عرفان خان انتقال کرگئے۔ صرف چار روز قبل ان کی والدہ سعیدہ بیگم کا انتقال ہوا تھا ۔

عرفان خان کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھے۔ ان کی عمر ترپن برس تھی۔

عرفان خان جے پور کے علاقے ٹونک کے قریب ایک گاوں میں مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے ان کی والدہ شاہی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ لیکن ان کے والد سیلف میڈ انسان تھے۔اپنے والد کے انتقال کےبعد انہوں نے نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں داخلہ لیا اور وہاں سے ایکٹنگ کی تربیت حاصل کی۔

میرا نائر نے ان کے ٹیلنٹ کو سب سے پہلے پہچانا اور انہیں 1988میں فلم سلام بمبے میں کاسٹ کیا۔دونوں نے ایک ساتھ پھر 2006میں فلم نیم سیک میں کام کیا۔ حال ہی میں دونوں نے فلم نیویارک آئی لو یو میں کام کیا

مشہور فلم سلم ڈاگ ملینئر میں ان کے کردار کی فلم ڈائریکٹر ڈینی بوائل ہمیشہ تعریف کرتے ہیں۔ ان کی پرفارمنس دیکھنے والی تھی۔ وہ اسٹار پرفارمر تھے۔ یہ وہ الفاظ تھے جو ڈینی بوائل نے متعدد بار میڈیا سے کہے۔

انہوں نے جراسک پارک، لائف آف پائی، اور دی مائٹی ہارٹ میں بھی کام کیا۔ بھارت میں ان کی مشہور فلمیں، مقبول، پان سنگھ تومار، بلو باربر، لنچ باکس، حیدر، غنڈے، پیکو، تلوار اور ہندی میڈیم رہیں۔

عرفان خان کی ورسٹائل اداکاری ، بہترین ڈائیلاگ ڈیلیوری نے انہیں بالی ووڈ میں ایک ممتاز کیا تھا۔ نصیر الدین شاہ اور اوم پوری کے بعد اگر بھرپور ادکاری کسی میں نظر آئی تو وہ عرفان خان تھے۔ اپنی نئی فلم انگریزی میڈیم کو لےکر وہ بہت خوش تھے۔ ٹوئٹر پر اپنے فین سے بار بار کہتے تھے کہ انگریزی میڈیم کو کامیاب فلم بناناہے۔

ان کے انتقال پر ہندوستان پاکستان کے فلمی شائقین میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مشہور بھارتی اداکار امیتابھ نے اسے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔

ان کے انتقال پر بھارت اور پاکستان میں ٹوئٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بھی عرفان خان ہے۔ جو ان کی مقبولیت کا ثبوت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں