اڑن طشتریاں حقیقت ہیں۔ پینٹاگون نے تصاویر جاری کردیں

خلائی طشتریاں حقیقت ہیں یا فسانہ یہ معمہ اب حل ہوگیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے امریکی لڑاکا طیاروں کے پائلٹوں کی بنائی گئیں ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں اڑن طشتریوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تین مختصر ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں ’نامعلوم فضائی مظاہر‘(یو اے پی) کو دکھایا گیا ہے جو اس سے قبل ایک نجی کمپنی کے ذریعے سامنے آئی تھیں۔

ایک پائلٹ کی رپورٹ کے مطابق اس نے ایک ایسی شے دیکھی جو اس کو دور نظر آرہی تھی لیکن دو سیکنڈ 2017 میں امریکی بحریہ کے ایک سابق کمانڈر ڈیوڈ فریور کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ ایک پرواز کرنے والی نامعلوم شے کے ساتھ اُن کا آمنا سامنا ہوا تھا جس نے انہیں حیران و پریشان کر کے رکھ دیا تھا۔سے کم وقت میں اتنی تیزی سےچلی گئی کہ اس کی اسپیڈ کا وہ اندازہ ہی نہیں کرسکتا تھا۔

پینٹاگون کی طرف سے اڑن طشتریوں کی تصدیق کے بعد یہ مفروضہ بھی اب درست ثابت ہورہا ہے کہ کائنات میں دیگر جگہ بھی مخلوق ہے جو زمین کا دورہ کرتی ہے۔

پینٹاگون کی جانب سے باضابطہ طور پر ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں، ویڈیوز کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی بحریہ کے پائلٹوں کو خلا میں نامعلوم اجسام – یو ایف او (اڑن طشتریوں) کا سامنا کرنا پڑا۔

جاری ویڈیوز کے ایک حصے میں نامعلوم شے اتنی تیزی سے اپنی رفتار میں اضافہ کرتے دیکھی گئی تھی جو بظاہر ناممکن لگتا ہے، پرواز کرتی ہوئی اس نامعلوم شے نے ایسے کرتب دکھائے جو موجودہ دور کے کسی امریکی طیارے کے بس کی بات نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں