جوش کا بیان۔۔گلزار دہلوی کے نام

گلزار کے نام سے کون واقف نہیں۔ گلزار دہلوی کے لیئے جوش ملیح آبادی نے جو کہا وہ شاید کوئی اور کہہ ہی نہیں سکتا تھا۔ ڈاکٹر ہلال نقوی نے کتاب یادوں کی برات قلمی نسخہ اور گمشدہ اوراق جمع کرکے کتابی شکل دی تو اس میں گلزار دہلوی کا بھی ذکر کیا۔ جوش صاحب گلزار دہلوی کے لیئے لکھتے ہیں

“دہلی کے قدیم باشندے، یادگار داغ، حضرت زار کے گرزند اور کشمیری پنڈت ہیں۔ وہہ اردو کے اس قدر زبردست حامی ہیں کہ جن سنگھی ہندو ان سے خار کھانے لگے ہیں۔ میں جب دہلی جاتا ہوں وہ میرے اعزاز مین ایک اہم مخسوص نشست کا اہتمام کرے میری عزت بڑھاتے ہیں۔

خوب رو، اب ھی ہیں، مگر ایک زمانے میں تو اس قدر حسین تھے ک ان کے روبرو بڑے بڑے ملاوں کی ٹھڈیاں اچکنے اور داڑھیاں کانپنے لگتی تھیں۔ اور بڑے بڑے پانڈے، ہے رام ہے رام، پکارنے لگتے تھے۔ لیکن تمام خوبیوں کے باوصف، وہ ایک مستقل جلد بازی، ایک چھلاوا، ایک لچل اور ایک ایسا زبردست شور و غوغا ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ ۔وہ باتیں نہیں کرتے۔،بمباری فرماتے ہیں”

گلزار دہلوی غزل کے شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں زمانے کی بے ثباتی اور بے رخی کا ذکر بھی خوب ملتا ہے

کس موڑ پر حیات نے پہنچا دیا ہمیں!!

ناراض ہیں غموں سے نا خوش ہیں خوشی سےہم

اچھے برے کے فرق نے بستی اجاڑ دی

مجبور ہوکے ملنے لگے ہر کسی سے ہم

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں