امریکا نے آیت اللہ خامنہ ای کے گھر پر بمباری کا منصوبہ بنایا تھا،ایرانی فضائیہ کا دعوی

نیوز ڈیسک: ایرانی فضائیہ کے سربراہ امیر علی حاجی زادہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی رہائش گاہ پر بمباری کا منصوبہ بنایا تھا۔

سرکاری تی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی فضائیہ کے سربراہ امیر علی حاجی زادہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکانے یہ حملہ جنوری کے ابتدائی دنوں میں کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جس کا علم ایرانی فضائیہ کو ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کی منظوری دیدی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوری میں ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو بغداد میں امریکی حملے میں شہید کردیا گیا تھا۔ جس کے بعد ایران کی طرف سے ردعمل سے گھبرا کر امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے بدلہ لینے کی کوشش کی تو ایران کے باون ثقافتی مقامات پر امریکا بمباری کرے گا۔

بریگیڈیئر امیر علی حاجی زادہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے جن باون مقامات کو نشانہ بنانے کی بات کی تھی ان میں سے بڑا ہدف سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا گھر تھا۔ وہ اپنے دفتر کے ساتھ منسلک مکان میں ہی رہائش رکھتے ہیں۔

ایران نے جوابی کارروائی میں عراق میں موجود دو امریکی اڈوں پر حملہ کیا تھا جس میں کئی امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے ۔

بریگیڈیئر امیر علی حاجی زادہ کا کہنا تھا کہ امریکی اڈوں پر حملے کے بعد امریکا کی طرف سے مزید حملوں کا خدشہ تھا جس کا جواب دینے کے لیئے ایران نے چارسو مقامات کو ٹارگٹ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ مقامات صرف عراق میں تھے یا مڈل ایسٹ اور دیگر ممالک میں بھی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چار سو اہداف کو نشانہ بنانے کی ساری تیاریاں مکمل تھیں۔

امریکا اور ایران میں محدود پیمانے کی جنگ جنوری میں ہوئی تھی جب عراق میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکا نے ایرانی پاسدران کے سربراہ کو ایک میزائل حملے میں آٹھ جنوری کو قتل کردیا تھا۔ جس کے بعد خطے میں کشیدگی عروج پر تھی ۔ ایران نے جوابی حملے میں دو امریکی اڈوں پر حملہ کیا تھا۔ عالمی مبصرین کو خدشہ تھا کہ صورتحال کسی بڑی جنگ کی طرف جارہی ہے جس کے بعد برطانیہ، جرمنی چین اور روس نے مداخلت کرکے معاملات کو ٹھنڈا کیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں