پاکستان کرکٹ کا نیا پنڈورا باکس کھلنےکے لیئے تیار،سلیم ملک سے لندن کی تین ملاقاتوں کی تفصیل طلب

لاہور سے اسپورٹس رپورٹر: پاکستانی کرکٹ ٹیم میں ایک اور پنڈورا باکس کھلنےوالا ہے۔ سلیم ملک نے انیس سال بعد قوم سے میچ فکسنگ پر معافی مانگتے ہوئے پی سی بی کو تحقیقات میں تعاون کی پیش کش کی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلیم ملک کو فوری طور پر بھیجے گئے سوالات کے جوابات طلب کیئے ہیں

پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی کا کہنا ہےسلیم ملک سے اپریل 2011 میں لندن میں ہونے والی تین ملاقاتوں سے متعلق سوالات کیئے گئے تھے۔ پی سی بی کو ان سوالات کے جواب چاہیے ہیں۔سلیم ملک کو آئی سی سی کی طرف سے بھیجا گیا ٹرانسکرپٹ بھیج دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن یونٹ سے تعاون ہی کھلاڑیوں کے لیئے واحد رستہ ہے۔

سلیم ملک کی طرف سے تعاون کرنے کی پیشکش کے بعد کرکٹ میں ایک نیا پنڈورا باکس کھلنے کے لیئے تیار ہے۔ سلیم ملک پاکستان کے نامور کھلاڑیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے رہے ہیں

سلیم ملک کے خلاف میچ فکسنگ کی تحقیقات ہوئیں تو اس میں چشم کشا انکشافات ہوئے جس میں کھلاڑیوں پر پیسے لینے اور جان بوجھ کر میچ ہارنےکے الزامات تھے۔ یہ رپورٹ اب پی سی بی کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ (تحقیقاتی کمیشن کی تفصیلی رپورٹ )

دوسری طرف سابق ٹیسٹ کرکٹر سلیم ملک نے 19 سال بعد قوم سے معافی مانگ لی جبکہ  وہ پھر سے فکسنگ کے حوالے سے سارے راز بتانے کو تیار ہیں۔

انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اینٹی کرپشن یونٹ کو بھی بھرپور تعاون کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

سلیم ملک نے آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کیساتھ غیر مشروط تعاون کرنے کی بھی یقین دہائی کروائی ہے۔

سابق کپتان نے کہا کہ ہیومن رائٹس قوانین کے تحت ان کے ساتھ بھی نرمی برتی جائے اور فکسنگ میں ملوث باقی کرکٹرز کی طرح انہیں بھی دوسری اننگز کا موقع دیا جائے

سلیم ملک نے تو قوم سے معافی مانگ لی لیکن جسٹس ریٹائرڈ قیوم کی رپورٹ میں دیئے گئے نام اب بھی خاموش ہیں۔

وسیم اکرم میچ فکسنگ میں سزا پانے سے بال بال بچ گئے تھے کیونکہ ان کے خلاف پہلے کرکٹر عطاالرحمان نے گواہی دی لیکن بعد میں وہ اپنے بیان سے مکر گئے ۔ جس کی وجہ سے وسیم اکرم کو سزا نہیں ہوئی تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ ایسے ثبوت موجود ہیں جس کی بنیاد پر وسیم اکرم پر شک کیا جاسکتا ہے ان کی ساکھ مشکوک ہے۔

رپورٹ میں پانچ دیگر کھلاڑیوں پر جرمانے عائد کرنے کی سفارش کی گئی ان میں وقار یونس، انضمام الحق بھی شامل تھے۔ مشتاق احمد کے خلاف مزید تحقیقات کا حکم بھی دیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں سلیم ملک کرکٹ سے باہر ہوئے وہاں باقی کھلاڑیوں کا کیریئر باقی رہا ۔ وہ کرکٹ بورڈ میں بھی جگہ بناتے رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں