کروناوائرس پر بروقت فیصلے نہ کرنے پر عمران خان سائڈ لائن کردیئے گئے،فنانشل ٹائمز کا دعوی

مشہوراخبار فنانشل ٹائمز نے ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بروقت اور مضبوط فیصلے نہ کرنے پر عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے سائد لائن کردیا ہے۔

خبر میں بائیس مارچ کو وزیراعظم کے دیئے گئے بیان کا حوالہ دیا گیا جس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں مکمل لاک ڈاون نہیں ہوگا۔لیکن چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں فوجی ترجمان میجرجنرل بابر افتخار نے فوج کا فیصلہ سنا دیا کہ فوج سخت لاک ڈاون کی نگرانی کرے گی تاکہ ملک میں کرونا وائرس نہ پھیل سکے۔جس کے بعد ملک میں فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کے لیئے تعینات کردیا گیا۔ ملک کے چاروں صوبوں میں لاک ڈاون بھی شروع ہوگیا۔ ساتھ ہی فوج نے فیڈریشن اور صوبوں کےد رمیان کرونا پالیسی سے نمٹنے کے لیئے یکساں حکمت عملی بنانے کے لیئے ایک خصوصی کمیٹی بھی بنوادی۔

ایک ریٹائرڈ افسر نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ حکومت نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے طریقہ کار میں ایک بڑا گیپ پیدا کردیا تھا جسے پر کرنے کے لیئے فوج کو میدان میں آنا پڑا۔ کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

کرونا وائرس کے روک تھام کا فوری اور موثر رستہ دنیا بھر میں لاک ڈاون ہی تجویز کیا گیا۔ سندھ حکومت اور وفاق کےد رمیان لاک ڈاون پر شدید اختلاف رہا۔ سندھ نے اپنی طرف سے لاک ڈاون شروع کردیا وفاقی حکومت اور پنجاب سمیت دیگر صوبوں نے یہ حکمت عملی بائیس مارچ کے بعد اپنائی۔

فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ فوج کی طرف سے لاک ڈاون کے فیصلے کے اعلان کے بعد لاک ڈاون ہوا ۔ لاک ڈاون کے بعد بھی وزیراعظم یہ سوال اٹھاتے رہے کہ کیا لاک ڈاون ضروری تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں