ڈارک ویب پر پاکستانیوں کا ڈیٹا35کروڑ میں دستیاب

رضوان عامر کراچی سے: ساڑھے گیارہ کروڑ پاکستانیوں کاحساس ڈیٹا ڈارک ویب پر35کروڑ روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔ اس معاملے پر دائر درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے وفاقی وزارت داخلہ، پاکستان ٹیلی کام، نادرا اور دیگر فریقین سے 30 اپریل کو جواب طلب کرلیا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ پاکستانی شہریوں کا حساس ڈیٹا پینتیس کروڑ روپے میں فروخت کیا جارہا ہے اس میں موبائل فون استعمال کرنے والے افراد کا شناختی کارڈ نمبرز، مکمل ایڈریس ، فون نمبرز اور دیگر معلومات شامل ہیں۔

دس اپریل کو ساڑھے گیارہ کروڑ پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر اپ لوڈ کیا گیا ۔ پاکستان میں ساڑھے سولہ کروڑ موبائل فون صارفین ہے جس کا مطلب ہے کہ اکثریت کا ڈارک ویب پر فروخت ہوچکا ہے۔ پاکستان میں اس وقت ساڑھے سولہ کروڑ موبائل صارفین ہیں، مزید شہریوں کو ڈیٹا بھی فروخت کیا جاسکتا یے۔

پاکستان میں ٹیکنالوجی کی مشہور نیوز ویب سائٹ پرو پاکستانی کے مطابق سائبر کرمنل نامی گروپ نے ڈارک ویب پر اس ڈیٹا کو اپ لوڈ کیا اور اس کی قیمت 300سو بٹ کوئن مقرر کی جن کی مالیت دس اپریل کو دولاکھ دس ہزار ڈالر تھی۔

پرو پاکستانی کے مطابق ڈارک ویب پر ہونے والا موبائل فون ڈیٹا 2014تک کا ہے۔ ڈارک ویب پر ڈیٹا فروخت کرنے والے ہیکرز نے ڈارک ویب پر اسٹیٹس لگایا کہ موبائل فون کے تمام ڈیٹا کو اپ لوڈ کیا گیا ہے۔ جن میں فون ون اور فون ٹو بھی شامل ہیں۔ ان میں ٹیکس نمبر بھی اپ لوڈ کیئے گئے ہیں

MSISDN ڈیٹا بھی ڈارک ویب پر اپ لوڈ کیا گیا ہے

سائبر ورلڈ میں کام کرنے والی کمپنیاں ابھی تک یہ نہیں بتا سکی ہیں کہ کتنی ٹیلی کام کمپنیوں کا ڈیٹا چوری ہوا ہے اور ڈارک ویب پر فروخت ہورہا ہے۔دی تھریٹ انٹیلی جنس کے مطابق ابھی اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کتنی ٹیلی کام کمپنیاں ہیکنگ کا نشانہ بنی ہیں۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے مطابق اس وقت پاکستان میں ساڑھے سولہ کروڑ موبائل صارفین ہیں جن میں سب سے زیادہ صارفین جیز کے پاس ہیں جس کا مارکیٹ شییئر36.58فیصد ہے۔ اس کے بعد ٹیلی نور کا شیئر27.63فیصد، زونگ کا 21.64فیصد اور یوفون کا 14.16فیصد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں