مئی جون خطرناک ہیں، کراچی میں صورتحال بے قابو ہونا شروع ہوگئی ہے۔ سندھ حکومت

سندھ میں آج کرونا وائرس سے متاثرین کی 320نئے کیسسز سامنے آئے ہیں۔ سندھ حکومت اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون میں نرمی ہوتے ہی کیسسز کی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔

سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے نجی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی بڑی تعداد لاک ڈاون میں نرمی ہوتے ہی باہر نکلنا شروع ہوگئی ہے۔ اور تین روز میں جو صورتحال ابھر رہی ہے وہ آنے والا وقت سخت ترین ہوسکتا ہے۔ سندھ حکومت اور ڈاکٹروں کو خدشہ ہے کہ مئی میں صورتحال قابو سے باہر ہوگی۔ ہلال احمر پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر سعید الہی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسپتالوں کی تعداد کافی نہیں ہے جو وبا کے بے قابو ہونے پر تمام مریضوں کی دیکھ بھال کرسکے۔ انڈس اسپتال کے سی ای او ڈاکٹر عبدالباری خان کا کہنا ہے کہ تراویح کے لیئے بنائے گئے ایس او پیز پر عمل درآمد ہونا ممکن نظر نہیں آتا اس سے مزید صورتحال خراب ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں