وزیراعظم پہلے فیصل ایدھی کو پہچانتے نہیں تھے اب کبھی بھولیں گے نہیں

مشہور سماجی کارکن فیصل ایدھی پندرہ اپریل کو جب وزیراعظم سے ملے تو انہیں وزیراعظم شناخت نہ کرسکے لیکن جب لوگوں نے بتایا تو وزیراعظم نے ہاتھ بھی ملایا اور فیصل ایدھی کی طرف سےچندے کا لایا گیا چیک بھی وصول کیا۔

وزیراعظم سے ملاقات کے صرف پانچ روز بعد جب فیصل ایدھی کا کرونا ٹیسٹ مثبت نکلا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ وائرس وہ لیئے پھرر ہے تھے اور انہیں پتہ نہیں تھا۔ اب اس کے بعد وزیراعظم کا کرونا ٹیسٹ پھر کرانا ہوگا۔ اور اگر خدانخواستہ رزلٹ مثبت آیا تو انہیں قرنطینہ میں بھی رکھنا ہوگا ۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ وزیراعظم نے کرونا ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ۔

فیصل ایدھی کی خبر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر طوفان مچ گیا اکثر نے وزیراعظم اور فیصل ایدھی کے لیئے دعائیں کیں۔ لیکن کچھ لوگوں نے میم بھی بنائی۔ انفلوئنسر مصطفی چوہدری نے اپنی ٹوئٹ میں وزیراعظم کے جارحانہ رویہ کی جھلک بھی دکھا دی

یہ بات تو یقینی ہے کہ وزیراعظم عمران خان اب کبھی فیصل ایدھی کو نہیں بھولیں گے لیکن شاید ان کے ساتھ صدر عارف علوی بھی فیصل ایدھی کو یاد رکھیں گے کیونکہ کل پیر کے روز ان کی اہم ملاقات وزیراعظم سے ہوئی۔جس میں ہاتھ بھی ملائے گئے ہوں گے۔

اکثر افراد کی رائے ہے کہ وزیراعظم اور فیصل ایدھی سے ملنے والے تمام افراد کو کرونا کا ٹیسٹ کرانا چاہیے اور قرنطینہ میں چلے جانا چاہیے۔مشہور ٹی وی اینکر ندیم ملک نے بھی ایک پروگرام فیصل ایدھی کے ساتھ سما ٹی وی میں کیا تھا۔ سما ٹی وی کے سی ای او نوید صدیقی نے کہا کہ ندیم ملک شو کےتمام عملے کو کرونا ٹیسٹ کے نتائج آنے تک گھر پر رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے

Starting on the wrong foot

فیصل ایدھی کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ فیصل ایدھی کی اپنے والد کی طرح مشہور نہیں ہیں اس لیئے انہیں شکل سے نہیں لوگ پہچانتے لیکن ان کا نام ضرور جانتے ہیں۔ وزیراعظم اسی وجہ سے انہیں نہیں پہچان سکے تھے۔۔لیکن اب فیصل ایدھی کا چہرہ اور چیک کبھی بھول نہیں سکیں گے۔ فیصل ایدھی کے بنتے تعلقات کا کیا ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال توفیصل ایدھی سے ملنے والا ہرشخص کرونا ٹیسٹ کے لیئے بھاگ رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں