تیل کی مارکیٹ تباہ۔ چین کا سورج طلوع ہوگیا

تحریر فرحان رضا۔ دنیا بھر میں تیل کی مارکیٹ آج تباہ ہوگئی ۔ پہلی بار امریکا کے تیل کی قیمت ایک ڈالر اور پھر منفی37ڈالر تک چلی گئی۔ منفی 37ڈالر کا مطلب ہے کہ اگر ایک بیرل تیل خریدیں گے تو بیچنے والا آپ کو 37ڈالر دے گا۔ لیکن یہ سودے مئی کی خریداری کے لیئے تھے۔ جون کی خریداری کے سودے پھر بھی پندرہ ڈالر سے اوپر تھے۔ تو پھر کیا ہوا کہ تیل کی مارکیٹ تباہ ہوگئی۔ یہ صرف سٹہ باز تھے اور صرف سٹے باز۔ یہ سٹے باز جنوری سے سرگرم ہوئے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں کو گراتے ہوئے تیل مارکیٹ کو ڈھا گئے۔

فرحان رضا۔ سینئر صحافی

پچھلے سال کا اختتام تین واقعات پر ہوا تھا ایک چین اور امریکا کی بدترین تجارتی لڑائی، دوسری تیل کی قیمتوں پر اوپیک اور دیگر ممالک میں جنگ، اور تیسری کرونا وائرس کی وبا کا پھوٹنا تھا۔ کیا ہہ اتفاق تھا کہ یہ وبا بھی چین سے ہی پھوٹی تو اس کا جواب ابھی نہیں دس بیس سال بعد ہی مل سکے گا۔ ایک امریکی اہلکار نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ دسمبر میں چین سے تجارتی معاہدہ ہوا جس میں چین نے شرط لگائی کہ اگر دنیا میں کوئی ایسی وبا پھلیتی ہے جو پوری دنیا کو گرفت میں لے تو پھر چین پر امریکی مصنوعات کی خریداری کے معاہدے پر عمل کرنا لازمی نہیں ہوگا۔ اور ٹھیک اس معاہدے کے پندرہ روز بعد وہان کی بگڑتی صورتحال کا چین نے اعلان کردیا۔

تیل کی مارکیٹ میں لڑائی پچھلے سال ہی شدت اختیار کرگئی تھی اوپیک ممالک اور روس، امریکا میں تیل کی قیمتوں پر جنگ جاری تھی۔ روس نے تیل کی قیمتوں کو کم سے کم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا جس سے عرب ممالک پریشان تھے۔ پھر تنگ آکر سعودی عرب نے بھی یکایک قیمتیں گرانی شروع کردیں۔ لیکن تیل کی قیمتوں پر اصل اثر اسوقت پڑا جب چین میں کرونا وائرس نے قبضہ کرلیا۔ تجارتی سرگرمیاں چین میں بند ہوگئیں۔ دنیا میں تیل سے لیکر کچرے تک کا سب سے بڑا خریدار چین، کچھ خریدنے کے لیئے تیار نہ تھا۔ اس کا اثردنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں پر ہوا۔ پھر جیسے جیسے وبا چین سے نکل کر دیگر ممالک میں پھیلنا شروع ہوئی تمام ممالک نے تیل سمیت ساری امپورٹ روک دی۔

وہان سے شروع ہونے والی وبا نے پوری دنیا کو راتوں رات بدل دیا۔ یہ وائرس کہاں سے آیا کیسے آیا اس پر ابھی تک تحقیقات جاری ہیں لیکن اس وائرس نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد جہاں جانیں لیں وہیں دنیا بھر کی معیشت کو شدید بحران میں ڈال دیا۔

انٹرنیشنل آئل مارکیٹ میں امریکا سے تیل خریدنے والوں نے آہستہ آہستہ امریکی تیل کی خریداری بند کرنا شروع کی اور آج یہ صورتحال تھی کہ امریکا کا تیل خریدنے کے لیئے کوئی خریدار نہیں تھا۔ فیوچر کنٹریکٹ یعنی آج وعدہ کیا جائے کہ اگلے مہینہ کس وقت تیل خریدیں گے کہلاتا ہے۔ مئی کو تیل اٹھانے کے فیوچر کنٹریکٹ کی مارکیٹ کا یہ عالم تھا کہ جنہوں نے تیل کے کنٹریکٹ خریدے تھے ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ تیل اٹھا کر کہاں لے جائیں۔ دنیا بھر کے ذخیرے بھرے ہوئے تھے۔ تیل سے سارے تیل بردار جہاز بھرچکے تھےکوئی جہاز تیل خریدنے کے لیئے خالی نہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کنٹریکٹ جن کے ہاتھ میں تھا انہوں نے کہا جو ملتا ہے اس پر کنٹریکٹ بیچ دو اپنے پیسے نکالو کیونکہ تیل تو خرید کر کہیں لے جایا نہیں جاسکتا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قیمتیں گرتے گرتے ایک ڈالر اور پھر منفی اور منفی میں چلتی چلی گئیں۔ ٹیکساس کا تیل امریکا کی بیک بون اس کی صنعتی ترقی کا سب سے بڑا پلر تھا اور یہ آج مفت میں بھی کوئی خریدنے کے لیئے تیار نہ تھا۔

اس کا اثر دوسری تیل کی مارکیٹوں پر بھی پڑے گا یعنی یورپ اور عرب لائٹ کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔ عرب یہ گراوٹ برداشت نہیں کرسکتے۔

سوال یہ ہے کہ فائدہ کسے ہوگا۔ تو فائدہ اسے ہی ہوگا جس کی سب سے بڑی صنعت ہوگی جس کو چلانے کے لیئے اسے بڑی مقدار میں تیل چاہیے ہوگا اور اس کے یہاں تیل نہیں نکلتا ہوگا۔ صرف سات دن پہلے چین نے اعلان کیا کہ معاشی سرگرمیاں بحال کی جارہی ہیں۔ اور ان معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا مطلب واضع تھا۔ اور کل اس نے شرح سود کم کرکے اپنی صنعتوں کو معاشی پیکیج دیا۔ اس پیکیج کے اگلے روز زہی تیل کی قیمتیں گرگئیں۔ چین کو اب خام مال بھی چاہیے اور تیل تو بہت چاہیے تاکہ بجلی سے لیکر ٹرانسپورٹ تک سب چل سکے۔ اگرا ایسے میں تیل مہنگا ہوتا تو چین کی پیدواری لاگت مہنگی ہوجاتی اور ہوسکتا تھا کہ چین کو اپنی معاشی پوزیشن مضبوط بنانے میں بہت وقت لگتا۔ چین کی ترقی کا راز صرف ایک ہے۔ سستا ترین سامان فراہم کرنا اور اس کے لیئے ضروری ہےکہ سستا ترین خام مال ملے اس کی پیداواری لاگت کم ہو اور ٹرانسپورٹیشن لاگت بھی کم ہو۔

یہ صدی نہ امریکا کی ہے نہ یورپ کی ہے۔ یہ صدی چین کی صدی ہے۔ اس کا سورج طلوع ہوچکا ہے۔ ذرا کرونا کی ہوا تھمنے دیں پھر پتہ چلے گا کہ دنیا کی اسٹاک مارکیٹوں پر امریکی بروکریج ہاوسسز اور سرمایہ کاروں سے زیادہ چینی سرمایہ کار موجود ہوں گے۔ اور سستا تیل چین کی مصنوعات کی ڈیمانڈ پہلے سے زیادہ اوپر لے جائے گا۔ جن کمپنیوں نے چین سے اپنی فیکٹریاں امریکی دباو پر نکال لی تھیں وہ دوبارہ وہاں فیکٹری لگانے کے لیئے دوڑ رہے ہوں گے۔ آج ون بیلٹ ون روڈ زیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ دنیا کی معیشت کو چلانے کا انجن یہی منصوبہ نظر آتا ہے

امریکا اور چین کی معاشی جنگ کا یہ نتیجہ نکلنا تھا۔ پہلا وار امریکا نے کیا تھا تجارتی پابندیاں لگاکر اور دوسرا چین نے کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ جنگ کہیں عالمی جنگ میں تبدیل تو نہیں ہوگی؟ ہر بڑے معاشی بحران کے بعد ایک نئی طاقت ایک نیا سامراج ابھر کر آیا ہے اور اس سے پہلے ایک جنگ ضرور ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں